Sunday, 23 June 2013

بجٹ ماموں۔۔تم اِک گورکھ دھندہ ہو


بجٹ ماموں۔۔۔ پہلے کبھی جب سال میں آیا کرتے تھے ۔کتنی سوغاتیں لایا کرتے تھے۔۔روپے کی قیمت بڑھتی تھی۔۔۔کھانے پینے کی چیزوں کی قیمت گھٹتی تھی۔۔۔۔محنتانے کی ٹافیاں کتنی میٹھی لگتی تھیں ۔۔۔تھوڑی سی گندم جھولی میں بھر کر دکان پر جائیں تو خوبانیوں سے جھولی بھر جاتی تھی۔۔۔۔کتنے اچھے دن تھے وہ بھی ۔۔۔ہمیں ہر سال کتنی شدت کے ساتھ بجٹ ماموں کا انتظار رہتا تھا۔۔۔۔ اب تو بجٹ ماموں چندا ماموں کی طرح ہر مہینے آتے ہیں ۔۔۔کبھی کبھی تو مہینہ گزرنے کابھی انتظار نہیں کرتے۔۔۔ہفتے دو ہفتے میں ہی ایک آدھ چکر لگا جاتے ہیں ۔۔۔لیکن روپے کی قیمت بڑھانے کے بجائے کچھ اور گھٹا جاتے ہیں۔۔۔چیزیں مہنگی کر جاتے ہیں۔۔۔مٹھائی کو کھٹائی میں بدل جاتے ہیں۔۔۔گندم کے بدلے خوبانیاں تو درکنار۔۔۔ ریوڑیاں تک نہیں ملتیں۔۔۔بجٹ ماموں کتنے بدل گئے ہیں ۔۔۔نہ ہماری سمجھ میں آتے ہیں نہ اڑوس پڑوس میں کسی سیانے بزرگ کے ساتھ حال احوال کرتے ہیں۔۔۔اب تو ہمیں بجٹ ماموں کی بولی بھی سمجھ میں نہیں آتی ۔۔۔بجٹ کا حجم ۔۔۔اربوں کے اخراجات، کھربوں کا خسارہ۔۔۔وصولیوں کے اہداف ،ٹیکسوں میں چھوٹ ۔۔۔محاصل کا تخمینہ ۔۔۔اُف، اتنے بھاری بھر کم الفاظ سن کر ہی آدمی کو آجائے پسینہ ۔۔۔۔بجٹ ماموں تم تو بالکل اعدادو شمار کا گورکھ دھندہ بن گئے ہو ۔۔۔ سنا ہے اب کی بار تم آئے ہو تو ایک نئے ولولے کے ساتھ آئے ہو ۔۔۔ہم سب کو پانچ لاکھ روپے تک کا قرض ِ حسنہ دو گے۔۔۔اپنی بہن بے نظیر کے نام پر انکم سپورٹ پروگرام جاری رکھو گے اور ایک ہزار روپے کے بجائے بارہ سو روپے ماہانہ دو گے۔۔۔کھانے پینے کی چیزوں کی دستیابی کے لیے جگہ جگہ جمعہ اور اتوار بازار لگاؤ گے۔۔۔ملک بھر میں موٹر وے کا جال بچھاؤ گے ۔۔۔ریلوے انجن پھر سے چلاؤ گے۔۔۔پنجاب کی طرح پورے ملک میں پڑھاکو بچوں میں لیپ ٹاپ بانٹو گے ۔۔۔پنشن میں دس فیصد اضافہ کرو گے ۔۔۔تنخواہ دار طبقے کی طرح تاجروں ،آڑھتیوں اور پرچون فروشوں کو بھی ٹیکس نیٹ میں لاؤ گے۔۔۔وزیروں ، مشیروں کے صوابدیدی فنڈز ختم کر دو گے۔۔۔بجلی جو روٹھ کر میکے چلی گئی ہے ، اُسے منا کر واپس لاؤ گے۔۔۔لاہور کی ترکی بس کی طرح کراچی میں جاپانی ریل چلاؤ گے ۔۔۔۔اتنے سارے اچھے وعدے کرتے ہوئے ، ایک وعدہ اوربھی کرتے جاؤ۔۔۔ بجٹ ماموں ۔۔۔ وعدہ کرو، سال میں ایک بار ہی آؤ گے ۔۔۔!  

No comments:

Post a Comment

 

Total Pageviews